20 ستمبر 2011 - 19:30

علی پور واقعے کے حوالے سے علی پور کے رہائشیوں کی طرف سے جاری ہونے والی پریس کانفرنس کے چند اقتباس پیش کر رہےہیں، تاکہ پورے پاکستان کے مومنین کو معلوم ہوسکے کے علی پور کے مومنین کن مشکلات سے گزر رہے ہے.

ابنا: درجنوں بے گناہوں کے قتل میں براہ راست ملوث اور دہشت گردوں کے مسلمہ سر پرست کالعدم لشکر جھنگوی کے سربراہ ملک اسحاق کی رہائی اور صوبہ بھر کے دوروں کا پروگرام فرقہ واریت ،لا قانونیت ،بد امنی اور خوف وہراس کوفروغ دے کر مذموم مقاصد کے حصول کی منظم سازش ہے۔ جس نے ملکی سا لمیت کو شدید خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ 18-09-11کو مبینہ دہشت گرد کے علی پور ضلع مظفر گڑھ سے شروع ہونے والے دوروں کا پروگرام اسی گھناؤنی سازش کا حصہ ہے جس سے علی پور پنجند روڈ پر دلخراش خونی واقعہ وقوع پذیر ہوا ہے جو بد امنی ، لا قانونیت اورفرقہ واریت کی بد ترین مثال ہے.

جانب داری اور یک طرفہ کاروائی کے تحت ہمارے ایک سو سے زیادہ بے گناہ افرادکوانسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت قتل ، اغوا ،جلاؤگھراؤ وغیرہ جیسے سنگین نوعیت کے مقدمات میں ملوث کر کے بے گناہوں کی پکڑ دھکڑ اور چادر و چار دیواری کے تقدس کو پامال کرنے کا سلسلہ شروع کردیا گیا ہے۔ جبکہ ذمہ دار افسران کو مطلع کرنے کے باوجود نہ تو ہمارے زخمیوں کو میڈیکل سرٹیفیکیٹ جاری کیے گئے ہیں اور نہ ہی ہمارا مؤقف سنا جا رہا ہے۔ان خیالات کا شیعہ علماء کونسل مظفر گڑھ اور دیگر مقامی مذہبی راہنماؤں نے 18-09-11کو علی پور پنجند روڈ پر وقوع پذیر ہونے والے واقعہ کے خلاف ایک مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران اپنے شدید رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کیا ہے۔

انہوں نے اس امر پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی طرف سے ملک اسحاق کے ضلع مظفر گڑھ میں داخلہ پر پابندی کے باوجود بھی عملی روک تھام میں غفلت کا مظاہرہ کیا گیا اور ضلع بھر سے کالعدم تنظیم کے مسلح کار کنوں کو ملک اسحاق کے استقبال کے لیے جمع ہونے کا موقعفراہم کیا گیا۔مسلح کارواں نے گلی کوچوں ، محلوں اور شا ہراؤں پر کھلم کھلا لا قانونیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اہل تشیع و اکابرین ملت کے خلاف غلیظ نعرہ بازی کی اور کھلے عام اسلحہ کی نمائش کی۔ مقامی انتظامیہ کے ذمہ داروں نے اس اشتعال انگیزی اور لا قانونیت کا بچشم خود مشاہدہ کیا اور نفرت آمیز نعرہ بازی کواپنے کانوں سے سنا ۔اس کے باوجود روک تھام کے لیے کوئی بھی مؤثر کاروائی نہ کی گئی ۔حتیٰ کہ یہ مسلح لشکرعلی پور پنجند روڈ سے ملحقہ شیعہ آبادی تک پہنچنے میں کامیاب ہو گیا ۔جہاں پر انہوں نے نہتے اور پر امن مقامی افراد پر بلا اشتعال فائرنگ شروع کر دی جس سے متعدد اہل تشیع زخمی ہوئے اور اسی بے ہنگم فائرنگ کے نتیجہ میں لشکر میں شریک ایک شخص محبوب حسین سکنہ سٹھاری تحصیل جتوئی ہلاک ہوا۔ اور کچھ افراد زخمی ہوئے ۔ وقوعہ کے بعد پولیس کی مداخلت پر ہجوم کے افراد علی پور پنجند روڈ پر واقع اپنے مسلک کے ایک مدرسہ کے سامنے جمع ہو گئے اور قومی شاہراہ کو بند کر دیا ۔ جس سے ٹریفک کا نظام معطل ہو گیا اور لوگوں کی آمدو رفت رک گئی ۔شر پسند عناصر نے اپنی فائرنگ سے مجروح ہونے والے افراد کو علی پور ہسپتال میں داخل کر کے پورے شہر میں مار دھاڑ شروع کر دی ۔اور خوف وہراس پیدا کر دیا ۔اور ہمارے زخمی افراد کو ہسپتال میں داخل نہ ہونے دیا ۔اشتعال انگیزی اور لا قانونیت سے منع کرنے پر اے ایس آئی رانا شوکت (ریڈر DSPعلی پور)کو تشدد کا نشانہ بنایا اور زخمی کیا ۔ اہل تشیع کے افراد کو بھی زدو کوب کرتے ہوئے اغوا کر لیا گیا ہے جو تاحال لا پتہ ہیں ۔مقامی پولیس شر پسند عناصر کے دباؤ میں آ چکی ہے۔ اور مخالفین کی طرف سے F.I.Rمیں نامزد بے گناہ افراد کی پکڑدھکڑ شروع کر رکھی ہے۔ جبکہ F.I.Rمیں نامزد افراد وقوعہ کے وقت جائے وقوعہ سے بیسیوں کلو میٹر دوراپنے اپنے علاقوں میں موجود تھے جنکی بے گناہی دیگر مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے معززین علاقہ ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں ۔

انتظامیہ یکطرفہ طور پر ہمارے خلاف کاروائی کر رہی ہے اور ہمارے مؤقف کو نظر انداز کیا جا رہا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ انتظامیہ بد امنی پیدا کرنے والے گروہ کے دباؤ میں آ چکی ہے اور جان بوجھ کر ضلع کی پر امن فضا کو فرقہ واریت کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔

مطالبات 1۔وقوعہ کے حقائق جاننے کے لیے جو ڈیشنل کمیشن تشکیل دیا جائے ا ور مقامی پولیس کی بجائے قومی سلامتی کے ذمہ دا ر اداروں سے انکوائری کرائی جائے ۔2۔ جھوٹی F.I.Rفوری ختم کی جائے اور ناجائز پکڑ دھکڑ کا سلسلہ روک کر ذمہ دار اداروں کی انکوائری کی روشنی میں نئی F.I.Rمرتب کی جائے ۔3۔ ہمارے زخمیوں کے میڈیکل سرٹیفیکیٹ جاری کر کے ملزمان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے ۔4۔ہمارے اغوا کیے جانے والے افراد کو فوری طور پر باز یاب کرایا جائے اور اغوا میں ملوث ملزمان کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے ۔5۔ لا قانونیت ، بد امنی اور فرقہ واریت پھیلانے والے عناصر کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں اور قرار واقعی سزا دی جائے۔

..............

/169